امراوتی، 18؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) شہر میں پھوٹ پڑنے والے تشدد کےمعاملہ میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔پچھلے ۴؍ دنوں میں فساد میں ملوث14؍ ہزار 673؍ افراد کو پولس تلاش کررہی ہے جن میں بی جے پی اور دیگر بھگوا تنظیموں کے 10؍ ہزار سے زائد لیڈرس اور کارکنان شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق اب تک 200؍ سے زائد افراد گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پولیس نے بتایا کہ بی جے پی لیڈر اور امرائوتی کے سابق سرپرست وزیر پروین پوٹے کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ وہ تشدد کے بعد سے ہی اپنے کچھ کارکنان کے ساتھ فرار ہوگئے تھےلیکن پولیس نے انہیں گرفتا رکرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔
یاد رہے کہ تریپورہ میں ہونے والے تشدد کے خلاف مہاراشٹر میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کے بعد ریاست میں ناندیڑ، مالیگاؤں، امراؤتی کے علاہ دیگر شہروں میں حالات کشیدہ ہو گئے تھے جبکہ امرائوتی میں بی جے پی اور بھگوا تنظیموں کے بند کی وجہ سے تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ 13؍ نومبر کو امراؤتی میں بی جے پی کی جوابی ریلی میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر پتھراؤ کیا اور مسلمانوں کی سیکڑوں دکانوں کو چن چن کرآ گ لگائی۔ اس تشدد میں کچھ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بی جے پی کے تمام اہم لیڈروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ 12؍ نومبر کو ہونے والے تاریخی مسلم بند اور ریلی کے معاملے میں بھی پولیس نے کارروائی کی ہے اور مقامی مسلم لیڈران سمیت ایک ہزار افراد کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ۔ ان میں سے کچھ کی گرفتاری عمل میں آگئی ہے اور بہت سے ضمانت پر رہا ہو گئے ہیں۔
اس کے بعد 13؍ نومبر کو ہونے والے تشدد اور آتشزنی کے معاملے میں امرائوتی پولیس نے 4؍ الگ الگ پولیس تھانوں میں14؍ ہزار 673؍ افراد کے خلاف کیس درج کرایا ہے۔ ان میں سے 10؍ ہزارسے زائد افراد بھگوا تنظیموں بجرنگ دَل، وشوہندو پریشد،بی جے پی، یواسوابھیمان، ہندوجن جاگرن سمیتی، ہندو ہنکار سمیتی، کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ اسوسی ایشن اور امراؤتی چیمبرس آف کامرس شامل ہیں۔ ان تنظیموں سے جڑے افراد پر اکثریتی آبادی والے علاقے راج کمل چوک، اتوارہ، نمونہ گلی، نوسری، حمال پورہ، عثمانیہ مسجد، کیمپ روی نگر، ولاس نگر، پہلوان چوک، درگاہ چوک اورنیو آکولی روڈ پر واقع مسلمانوں کی دکانوں کو نذر آتش کرنے کا الزام ہے۔
واضح رہے کہ اس فساد میں امرائوتی کے سابق سرپرست وزیر پروین پوٹے کو کوتوالی پولیس تھانہ نے دس کارکنان سمیت گرفتار کیا ہے۔انہیں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات جیسے دفعہ 270(جان کو خطرہ)، 505، 51(بی)(کسی دوسرے مذہب کی اہانت کرنا)، 153(اے)، مہاراشٹرا پولیس ایکٹ 3؍اور 7؍ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ انہیں جمعرات کوعدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پولیس شہر کےمسلم اکثریتی اور ہندو اکثریتی علاقوں میں امن کمیٹیوں کی میٹنگیں کروارہی ہے تاکہ حالات جلد از جلد معمول پر لائے جاسکیں اور کرفیو میں رعایت دی جاسکے۔ اس کے علاوہ انٹر نیٹ بھی بحال کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔